افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی، جو طالبان کے کنٹرول میں کام کر رہی ہے، نے اعلان کیا ہے کہ چینی ریڈ کراس نے بلخ اور سمنگان کے صوبوں میں زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے 100,000 ڈالر کی امداد فراہم کی ہے۔
افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی، جس کی سرگرمیاں طالبان کے زیر انتظام ہیں، نے بتایا کہ چینی ریڈ کراس نے حالیہ زلزلے سے متاثرین کی مدد کے لیے 100,000 ڈالر کا عطیہ دیا ہے۔ یہ امداد بلخ اور سمنگان کے صوبوں میں متاثرین کے لیے مہیا کی گئی ہے۔
سوسائٹی نے پلیٹ فارم X (جسے پہلے ٹوئٹر کہا جاتا تھا) پر یہ اطلاع دی کہ یہ نقد امداد چینی نائب سفیر باو ژوہوئی نے کابل میں ریڈ کریسنٹ کے حکام کے حوالے کی۔ یہ اقدام بیجنگ اور افغانستان کے درمیان انسانی تعاون کی جاری نوعیت کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر حالیہ زلزلے کے بعد۔
گزشتہ اتوار کی شام کو 6.3 شدت کا زلزلہ شمالی افغانستان میں آیا، جس نے وسیع پیمانے پر نقصان اور ہلاکتوں کا سبب بنا۔ اس واقعے میں زیادہ تر ہلاکتیں اور مالی نقصانات سمنگان اور بلخ کے صوبوں میں وقوع پذیر ہوئے۔
قابل اعتماد رپورٹوں کے مطابق، اس قدرتی آفت کی وجہ سے کم از کم 27 افراد کی جانیں گئی ہیں جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ مزید برآں، اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں صوبوں میں 1,300 سے زائد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہو چکے ہیں۔
اس مہلک زلزلے کے بعد، دنیا کے متعدد ممالک نے انسانی امداد افغانستان بھیجی ہے تاکہ زلزلے سے متاثرہ آبادی کی مشکلات کو کم کیا جا سکے اور متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں مدد فراہم کی جا سکے۔ چینی ریڈ کراس کی نقد امداد اسی عالمی اقدام کا حصہ ہے جس کا مقصد شمالی افغانستان کے لوگوں کی حمایت کرنا ہے۔