حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 14 ژوئن , 2021 خبر کا مختصر لنک :

افغانستانی بحران کا حل عسکریت میں نہیں ہے: عبد اللہ

افغانستان کے حوالے سے علاقائی اور بین الاقوامی اتفاق رائے کو مستحکم کرنے کے سلسلے کا پانچواں اجلاس ورچوئل طور پر منعقد ہوا۔


علاقائی اور بین الاقوامی اتفاق رائے کے سلسلے کے پانچویں اجلاس میں عبد اللہ عبد اللہ، سپریم قومی مفاہمتی کونسل کے چیئرمین محمد حنیف اتمر، سید سعادت منصور نادری، اسلامی جمہوریہ افغانستان کی مذاکراتی کمیٹی کے چیئرمین محمد معصوم استانکزئی، ملکی اور غیر ملکی سفرا، اور کابل میں مقیم بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔

اس جلاس میں جناب عبداللہ نے اس عزم پر زور دیا کے افغانستان کی موجودہ جنگ کا سیاسی حل تلاش کرنا چاہئے۔

عبداللہ نے مزید کہا: اس نازک مرحلے میں ہماری کوشش یہ ہے کہ صلح قائم کریں اور ایک دیرپا اور با وقار امن کے حصول کے لئے ہمیں خطے کے ممالک اور بین الاقوامی برادری کے تعاون کی مسلسل ضرورت ہوگی تاکہ سب مل کر طالبان کو سنجیدہ طور پر مذاکرات میں شمولیت پر مجبور کریں۔

مذاکرات کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جناب عبداللہ نے کہا کہ وہ افغانستان میں تشدد کے خاتمے اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

سپریم قومی مفاہمتی کونسل کے چیئرمین کا کہنا تھا: ہمارا ماننا ہے کہ افغانستان کی جنگ کا حل عسکریت میں نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان کا امن کا موقف برقرار ہے۔ لیکن اگر صورتحال برعکس نکلتی ہے اور مذاکرات اور جنگ بندی کے مواقع سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو ہم ملک کے دفاع کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔

دوست ممالک کے نمائندوں نے امن مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں