افغانستان میں امریکی افواج کے سابق کمانڈر کا کہنا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کے نتیجے میں وہ سب کچھ مل گیا جو وہ حاصل کرنا چاہتے تھے اور اب وہ کسی بھی سیاسی سمجھوتے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
افغانستان میں امریکی افواج کے سابق کمانڈر، جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کا کہنا تھا کہ طالبان کو مذاکرات کے ذریعے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل ہوگئے ہیں۔ ان مقاصد میں طالبانی رہنماؤں اور جنگجوؤں کی رہائی، اور غیر ملکی افواج کا افغانستان سے انخلا شامل ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ طالبان کو اب کسی ایسے سیاسی سمجھوتے میں دلچسپی نہیں جو انکی قدرت کی تقسیم کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے وایس آف امریکہ (Voice of America) سے گفتگو میں کہا: “طالبان کسی بھی معنی خیز، قابل اعتماد اور دیرپا سمجھوتا کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے جس سے ان کے اقتدار میں کسی طرح کی شراکت داری ہو، یا جس سے اس مسئلے کا کوئی ڈپلومیٹک حل نکل سکے”
امریکی ریٹائرڈ جنرل نے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی کے امکان سے بھی خبردار کیا۔
انہوں نے مزید کہا: افغانستان کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کا گڑھ بننے سے روکنے کی تمام کوششوں کے باوجود، جنگ کی واپسی کا زیادہ امکان پایا جاتا ہے”-
غیر ملکی افواج کا خروج کا سلسلہ یکم مئی سے شروع ہوا ہے اور اس سال کی 11ویں ستمبر تک مکمل ہونا ہے۔
غیر ملکی افواج انخلا کے اعلان کے بعد طالبان کے حملوں میں شدت بڑھ گئی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں تین شہر اس گروہ کے قبضے میں آ گئے ہیں۔ دوسری طرف، امن مذاکرات میں اب تک کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے۔