سعودی عرب نے یمن پر حملہ کر کے اس کے محاصرے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس نے یمنی حجاج پر بھی بہت سی سختیاں عائد کی ہیں۔
اس حوالے سے ادارہِ یمنی بہبودی و نجات کے حج و عمرہ سیکشن کے ڈائریکٹر جنرل، عبدالرحمن النعمی نے کہا ہے کہ سعودی حکومت نے اس سال صرف ۱۱ ہزار یمنی عازمین کو حج کے مناسک ادا کرنے کی اجازت دی ہے، اور اس کے بدلے میں ان پر کئی شرائط اور رکاوٹیں عائد کی گئی ہیں، جیسے عمر ۶۵ سال سے کم ہونا، عدن (ریاض کی سربراہی میں مستعفی یمنی حکومت کا مرکز) سے پاسپورٹ صادر ہوا ہوا ہونا، اور حج کے اخراجات میں ۱۰۰ فیصد اضافہ، جس سے اب لاگت تقریبا ۱۶ ہزار سعودی ریال (تقریبا ۴ ہزار امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی ہے۔
صنعا میں لینڈ ٹرانسپورٹ کے جنرل ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ، ولید الوداعی نے بھی کہا کہ حجاج کے لیے زمینی راستے دوبارہ کھولنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا گیا تھا لیکن سعودی کمیٹی نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ کمیٹی نے یمنی حجاج کو ۵۱۳ اور ۲۸۷ کلومیٹر کے مجوزہ راستوں کے بجائے، ۹ یمنی صوبے عبور کرنے اور ۱۴ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرنے پر مجبور کیا ہے۔
صنعا ایئرپورٹ کے ڈائریکٹر، خالد الشایف نے بھی بتایا کہ یمن کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے صرف صنعا ایئرپورٹ کے ذریعے ۱۰ ہزار عازمین حج کو روانہ کیا جاتا تھا۔ صنعا ایئرپورٹ سے حج کے لیے پروازیں شروع کرنے کا معاملہ حالیہ برسوں میں نہیں اٹھایا گیا ہے کیونکہ سعودی کمیٹی ایئرپورٹ کو بند رکھنے پر مصر ہے۔