حصہ : بین الاقوامی -+

زمان اشاعت : یکشنبه, 19 ژوئن , 2022 خبر کا مختصر لنک :

دنیا کو ایک بے مثال غذائی بحران کا سامنا ہے: گوٹیرس

انٹونیو گوٹیرس نے کہا:  ہمیں ایک بے مثال عالمی غذائی بحران کا سامنا ہے، اور جب تک یوکرین اور روس مناسب طریقے سے تجارت کو دوبارہ شروع کرنے کا راستہ تلاش نہیں کرتے، اس بحران کا کوئی موثر حل موجود نہیں۔


انہوں نے کہا:  ہم نے عالمی غذائی قلت میں اضافہ دیکھا، جس نے کئی دہائیوں کی ترقی کو پلٹ کر رکھ دیا ہے۔  ایتھوپیا، یمن، جنوبی سوڈان، صومالیہ اور افغانستان میں ۷ لاکھ ۵۰ ہزار افراد بھوک سے مر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مطابق، سال ۲۰۲۱ میں ۵۳ ممالک یا خطوں میں تقریباً ۱۹ کروڑ ۳۰ لاکھ افراد کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔  شدید غذائی عدم تحفظ اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا:  سال ۲۰۲۲ میں متعدد قحط کے حقیقی خطرے ہیں، اور سال ۲۰۲۳ اس سے بھی بدتر ہو سکتا ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں