تخار میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان نے صوبے میں لڑکیوں کے دو اسکولوں کو مدرسوں میں تبدیل کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق طالبان کے اس فیصلے کا اطلاق صوبہ تخار میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کے افغانستان پر قبضہ کرنے سے قبل ان دونوں اسکولوں میں نویں سے بارہویں جماعت تک 7ہزار لڑکیاں زیر تعلیم تھیں۔
طالبان نے افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد ملک بھر میں سینکڑوں مدرسے قائم کیے ہیں جبکہ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کردی ہے۔