حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : یکشنبه, 16 نوامبر , 2025 خبر کا مختصر لنک :

پاکستان کے وزیرداخلہ کا افغانستان پر دہشتگردی کے الزامات کا سنگین دعویٰ

محسن نقوی، پاکستان کے وزیرداخلہ، نے افغانستان پر پاکستانی سرزمین پر دہشت گرد حملوں میں مداخلت کا براہ راست الزام لگایا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے اصل مجرم وہ افراد ہیں جو ڈورنڈ لائن عبور کرتے ہوئے پاکستان داخل ہوتے ہیں، اور یہ صریح الزامات اس وقت لگائے جا رہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات 2021 کے بعد اپنی بدترین حالت میں ہیں...


دہشت گرد حملوں میں افغانستان پر مداخلت کا الزام

محسن نقوی، پاکستان کے وزیرداخلہ، نے ہفتہ کے روز جنوبی وزیرستان کے وانا ملٹری اکادمی کے دورے کے دوران، جو گزشتہ ہفتے ایک مہلک دہشت گرد حملے کا مقام تھا، افغانستان پر پاکستانی سرزمین پر دہشت گرد حملوں میں براہ راست مداخلت کا بے مثال الزام لگا دیا۔ گزشتہ ہفتے کے حملے میں کم از کم تین سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ نقوی نے وانا میں مقامی قبائلی بزرگوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ مقامی لوگوں کا ان حملوں میں کوئی کردار نہیں ہے اور اصل مجرم وہ افراد ہیں جو دوسری طرف سے ڈورنڈ لائن عبور کرتے ہوئے پاکستان کے اندر آتے ہیں۔

دو حالیہ بڑے حملوں کا حوالہ

پاکستان کے وزیرداخلہ نے خاص طور پر دو حالیہ واقعات کا ذکر کیا جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں جانیں گئیں: ایک خودکش دھماکہ منگل کے روز اسلام آباد کے عدالتی کمپلیکس کے قریب جس میں 12 افراد جان سے گئے۔ وانا ملٹری اکادمی پر ایک حملہ جس میں تین سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وادی وزیرستان کے حملے اور اسلام آباد کے خودکش حملے دونوں میں مجرم باہر سے آئے تھے۔ وہ لوگ جو وہاں سے بھیجے گئے تھے [افغانستان] یہاں حملہ کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طویل عرصے سے، مقامی رہائشیوں کی طرف سے کوئی بھی حملہ نہیں کیا گیا ہے۔

ہمارے ملک کے امن کا پیغام مت تباہ کریں

محسن نقوی، قطر اور ترکی میں پاکستان اور طالبان کے اہلکاروں کے درمیان حالیہ مذاکرات کو یاد کرتے ہوئے، کہا کہ اسلام آباد نے بار بار کابل پر زور دیا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے دہشت گرد کارروائیاں بند کرے۔ انہوں نے دوبارہ کہا: ہمارے ملک کا امن مت تباہ کریں، یہ الفاظ نقوی نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران اٹھائے تھے۔ یہ الزامات اس وقت آتے ہیں جب پاکستان اور طالبان کے درمیان تعلقات 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد اپنی بدترین حالت میں ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور ٹرانزٹ راستے ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے بند ہیں، اور حالیہ تین طرفہ مذاکرات بھی غیر نتیجہ خیز رہے ہیں۔

سیکیورٹی بحران یا سیاسی دباؤ؟

یہ بار بار کے الزامات پاکستان کی مشرقی سرحدوں پر سیکیورٹی بحران کی بگڑتی ہوئی حالت اور باغی گروپوں کی دراندازی کو روکنے میں اسلام آباد کی عدم صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ طریقہ کابل پر سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے اس صورت حال میں جہاں اقتصادی اور سفارتی چینلز رکاوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب، طالبان نے ان الزامات کا بار بار جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں عدم تحفظ اس ملک کا داخلی مسئلہ ہے اور کابل پاکستان میں سیکیورٹی قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ طالبان کا یہ اصرار کہ بحران داخلی ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ سرحد پار سیکیورٹی اہداف سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں