حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : سه‌شنبه, 15 سپتامبر , 2026 خبر کا مختصر لنک :

ہرات میں خواتین کے لیے بغیر برقعہ ہسپتال جانے کی پابندی برقرار

حالانکہ طالبان کے وزارت نشاۃ و نائب کے مطابق، ہرات میں خواتین کے لیے بغیر برقعہ ہسپتالوں میں جانے پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے، مگر مقامی رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ پابندیاں اب بھی لاگو ہیں۔


بغیر برقعہ مریضوں پر پابندیاں

ہرات کے مقامی ذرائع نے رپورٹ کیا ہے کہ طالبان کے اہلکار بغیر برقعہ پہنے مریضوں کو شہر کے مرکزی ہسپتال میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ اس صورتحال نے صوبے میں خواتین کی صحت کی خدمات تک رسائی کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔

ایک خاتون ڈاکٹر، جو اس صورتحال پر ردعمل دے رہی تھیں، نے سوشل میڈیا پر اپنی کہانی شیئر کی۔ انہوں نے لکھا، “میں بھی آج واپس آئی… میں نے وہاں جانے کے لیے برقعہ پہنا، صرف اس لیے کہ میں کام کر سکوں۔” یہ بیانیہ خواتین طبی عملے پر پڑنے والے دباؤ کو واضح کرتا ہے۔

طالبان کے احکامات میں تضاد

یہ پابندیاں عائد کرنا ہرات میں وزارت نشاۃ و نائب کی جانب سے رات کے وقت کیے گئے اعلان کے بالکل متضاد ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ بغیر برقعہ ہسپتالوں میں جانے کی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ تاہم، یہ تبدیلی صرف چند گھنٹوں تک رہی، کیونکہ آج صبح ایک خاتون ڈاکٹر کی رپورٹ سامنے آئی کہ اسے اپنے کام کے مقام پر بغیر برقعہ کے ہونے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا۔

یہ قابل ذکر ہے کہ طالبان نے ہرات کے تمام متعلقہ دفاتر میں خواتین کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے، اور اب یہ پابندیاں شہر کے بنیادی صحت کی سہولیات پر سختی سے نافذ کی جا رہی ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں