حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 25 اکتبر , 2021 خبر کا مختصر لنک :

پینٹاگون: امریکی کیمپوں میں آدھے افغانستانی شہری، یتیم بچے ہیں

امریکا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ملک میں داخل ہونے والے ۵۳ ہزار افغانستانی شہریوں میں سے آدھی تعداد بچوں پر مشتمل ہے۔


امریکہ کی وزارت دفاع (پینٹاگون) نے کانگریس کے قانون سازوں کو لکھے گئے ایک حالیہ خط میں کہا ہے کہ امریکہ لائے گئے اور فوجی مقامات میں رہنے والے ۵۳ ہزار افغانستانی شہریوں میں سے آدھی تعداد بچوں کی ہے، اور یہ صورتحال بہت سے چیلنجوں کی عکاسی کرتی ہے، کہ جن کا حکام کو شہریوں کی رہائیش کا بندوبست کرنے کے کوششوں کے حوالے سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسی اساس پر، پہلی مرتبہ مہاجرین کی صورت حال کے بارے میں معلومات منظر عام پر آئی ہیں، اور امریکا کے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سینئر رکن سینیٹر جیمز اینہوف کے تحریری سوالات کے جواب کے دوران پیش کی گئی ہیں۔

اس خط کے مطابق امریکی فوجی اڈوں میں رہائیش پزیر افراد میں ۲۲ فیصد بالغ خواتین کی، اور ۳۴ فیصد مرد شامل ہیں۔ اس خط میں بے سہارا بچوں کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اور سینیٹر اینہوف نے بھی اپنے سوالات میں اس مسئلے کا ذکر نہیں کیا ہے۔

جرمنی کے رامسٹین ایئر بیس سے نکالے جانے والے افراد میں سیکڑوں یتیم بچے بھی شامل تھے، کہ یہ معاملہ بیس کے اہلکاروں اور طبی عملے کے لیے ایک چیلنج تھا۔ اینہوف نے پینٹاگون کے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ۱۲۴ ہزار افراد کی تفصیلات فراہم کریں کہ جنہیں اگست میں امریکہ کی تیزی سے روانگی کے دوران کابل ہوای اڈے کے ذریعے نکالا گیا تھا۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں