امریکی محکمہ دفاع کے عہدےداروں کا کہنا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان دوبارہ اقتدار میں آجائیں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا: افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے دو سالوں میں طالبان بحال ہو جائیں گے اور اقتدار سنبھال لیں گے۔
انہوں نے مزید تاکید کی: افغانستان میں طالبان کی واپسی افغانستان میں امریکی مفادات اور امریکی قومی سلامتی کے خلاف ہے۔
جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ اور سابق فوجی، مارک ملی نے کہا: اگر افغانستانی حکومت میں اختلافات بڑھ جاتے ہیں، یا غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد کسی وجہ سے اگر اندرونی اختلافات بڑھتے ہیں، تو طالبان کے طاقت میں آنے میں تیزی آسکتی ہے۔ لیکن طالبان کی افواج کو پہلے کی طرح قدرتمند ہونے کے لئے دو سال لگیں گے۔
ملی نے مزید کہا: افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد امریکہ کے لئے اس ملک میں طالبان جیسے شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا بہت دشوار ہوگا۔
وزارت دفاع (پینٹاگون) کے عہدےداروں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا سے طالبان جیسے گروہوں کی سرگرمیوں سے متعلق انٹیلی جنس میں کمی واقع ہو گی، لیکن اس مشکل سے نمٹنے کے لئے امریکہ ہمسایہ ممالک میں اپنے اطلاعات جمع کرنے والے طیاروں کی تعیناتی سمیت دیگر حفاظتی اقدامات کا ارادہ رکھتا ہے۔
آسٹن نے کہا: ان اقدامات کا مقصد مشرق وسطی میں واشنگٹن کے مفادات کا تحفظ ہے۔ اس بار امریکہ اس مقصد کو افغانستان سے باہر اڈوں کی مدد سے انجام دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔