حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 6 سپتامبر , 2021 خبر کا مختصر لنک :

خواتین ججوں کو طالبان کی طرف سے رہا کیے جانے والے مجرموں سے انتقامی کارروائیوں کا خوف

متعدد خواتین ججوں نے بتایا ہے کہ قید سے رہا ہونے والے مجرموں نے بدلہ لینا چاہا ہے اور کہ وہ محفوظ نہیں ہیں۔


متعدد خواتین ججوں کو سزا سنائے جانے والے مجرموں کی انتقامی کارروائی کے خدشات ہیں۔ ان کے بقول، طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد رہا ہونے والے مجرم اب ایسے افراد کی تلاش میں ہیں جو پچھلی حکومت کی عدلیہ میں کام کرتے رہے تھے۔

اس بارے میں ایک خاتون جج، جو ملک سے فرار پر آمادہ ہیں، نے کہا: چار یا پانچ طالبان اراکین آئے اور میرے گھر کے لوگوں سے پوچھا، ‘یہ خاتون جج کہاں ہے؟’ یہ وہ افراد تھے جنہیں میں نے قید کیا تھا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا: طالبان نے ملک بھر میں قیدیوں کو رہا کیا ہے اور اس عمل سے خواتین ججوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے عام معافی کا اعلان کیا ہے اور سابق سرکاری ملازمین کو معاف کر دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، افغانستان میں تقریبا ۲۵۰ خواتین جج تھیں، جن میں سے کچھ حالیہ ہفتوں میں ملک چھوڑنے میں کامیاب ہوئیں ہیں۔

ان میں سے بیشتر اب بھی افغانستان میں موجود ہیں اور ملک سے فرار کا راستہ تلاش کر رہی ہیں۔

افغانستانی عدلیہ میں کام کرنے والی خواتین پہلے بھی دہشت گرد حملوں کا نشانہ رہی ہیں۔

حالیہ دنوں میں ہی ہرات اور کابل میں خواتین نے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کیا تھا۔

مظاہرین نے نئی حکومتی کابینہ میں خواتین کی سیاسی شمولیت کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے تمام حقوق بشمول آزادی اظہار، تعلیم، اور روزگار سمیت تمام شعبوں میں ان کا احترام کیا جانا چاہیے۔

دریں اثنا، قطر میں طالبان کے دفتر کے نائب سربراہ شیر محمد عباس استانکزئی نے حال ہی میں اس بات کی دوبارہ یقین دہانی کروائی کہ خواتین کو اسلامی قانون کے تحت کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے لیکن وہ حکومتی سطح پر وزیر نہیں بن سکتی ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں