عالمی ادارہ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) نے افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور اس پیش قدمی کی ملک میں صحت کی سہولیات پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ایک عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی سرعت سے پیشرفت سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ کئی دہائیوں سے جاری تنازعات، کورونا وائرس، اور خشک سالی سے دوچار لوگوں کی علاج معالجے تک رسائی میں مشکل ہو۔
ڈبلیو ایچ او کے مشرقی بحیرہ روم کے ریجنل ڈائریکٹر اور افغانستان کے ڈائریکٹر، ریک برینن نے جنیوا میں کی جانے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس میں ویڈیو کے ذریعے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: افغانستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک اور انتہائی غیر مستحکم ہے۔
جب کہ طالبان کا دعوی ہے کہ انہوں نے افغانستان کے ۸۵ فیصد علاقوں پر کنٹرول کر لیا ہے، اور امریکی افواج مکمل طور پر افغانستان چھوڑنے کی تیاری کر رہی ہیں، عالمی ادارہ صحت کے عہدیدار نے کہا: یم یقینا علاج اور معالجے تک رسائی کی بگڑتی صورتحال کے بارے میں بہت پریشان ہیں۔
اگرچہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا طالبان سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں ہے، اور انکے طالبان سے کوئی مذاکرات طے نہیں ہیں، برینن نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی ادارہ صحت کو طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں طبی عملے کو صحت سہولیات فراہم کرنے کی خاطر اپنے علاقوں میں باقی رکھنے کی خواہش کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا ، پولیو ویکسینیشن پروگرام جاری رہ سکا ہے، اور مجھے یقین ہے کہ اس سے مزید علاج کے لئے پلیٹ فارم مہیا ہوگا۔ لیکن صورتحال دن بدن بدل رہی ہے اور ہم بہت پریشان ہیں۔ طالبان کے حملوں کا آغاز کورونا کی تیسری لہر کے ہمزمان ہے، جب کہ بہت کم، صرف تقریبا ۴ فیصد لوگوں کو ویکسین لگ چکی ہے۔
برینن نے کہا: سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کویوڈ ۱۹ کی وجہ سے افغانستان میں ۵۵۶۱ افراد ہلاک ہوچکے جب کہ ۱۳۱۵۸۶ افراد اس بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں۔ تاہم، یہ اعدادوشمار واقعی شرح سے نمایاں طور پر کم ہے۔