23 ممالک کے وزرائے خارجہ اور یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے نے ایک مشترکہ بیان میں طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کی ان کے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں تک رسائی کو محدود کرنے والے فیصلوں اور اقدامات کو منسوخ کریں۔
اس بیان کے مطابق، افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو چھٹی جماعت سے اوپر کی تعلیم، اعلیٰ تعلیم، عوامی اور سیاسی جگہوں اور ملازمت کے مواقع تک رسائی سے محروم رکھا جاتا ہے۔
اس مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک ان فیصلوں پر نظر ثانی نہیں کی جائے گی، ان فیصلوں اور اقدامات کے مضر اثرات، افغانستان کی معیشت اور معاشرے کیلئے تباہ کن اور ناقابل تلافی ہوں گے اور افغانستان کا ہر شہری اسے محسوس کرے گا۔
23 ممالک کے وزراء نے اس مشترکہ بیان میں اعلان کیا کہ خواتین اور لڑکیوں کے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا مکمل احترام اور معاشرے میں ان کی مساوی اور بامعنی شرکت نہ صرف ان کیلئے ایک مقصد ہے بلکہ افغانستان میں ہم آہنگی، استحکام، امن و امان، اقتصادی اور سیاسی ترقی کیلئے بھی لازمی شرط ہے۔