حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : شنبه, 14 آگوست , 2021 خبر کا مختصر لنک :

افغانستان میں جنگی جرائم کے مقدمے سے نظراندازی پر طالبان اور امریکہ کا خفیہ معاہدہ

ایک سکیورٹی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ خلیل زاد کا طالبان کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے کہ فوجداری عدالت میں امریکہ پر چلنے والے مقدمے طالبان ختم کروائیں گے۔


رابرٹ ریان، ایک سی آئی اے کارکن جو کئی برسوں سے افغانستان میں خدمات انجام دے رہیں ہیں، انہوں نے کلب ہاؤس میں ایک انٹرویو میں انکشاف کیا، جس محفل میں ان کے کچھ سابق ساتھی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، کہ خلیل زاد نے طالبان کے ساتھ فوجداری عدالت میں امریکی مقدمے بند کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ فوجداری عدالت کے بہت دباؤ میں تھا، اس لیے اس نے اراکین پر پابندیاں عائد کر کے، اور افغانستان میں جنگ کو جاری رکھ کر اس مقدمے کی پیشرفت کو روکنے کی کوشش کی۔

ان کے بقول، افغانستان میں جنگ میں شدت امریکہ کے مفاد میں ہے، اور وائٹ ہاؤس کے مقاصد میں سے ایک مقصد بین الاقوامی برادری، افغانستانی عوام اور فوجداری عدالت کی توجہات کو افغانستان میں ان کے جرائم سے ہٹانا ہے۔ اور وہ اس مقصد میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں.

سن ۲۰۲۰ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت سے ہٹ کر، امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سربراہ فیبیو موچوکو پر بھی پابندیاں عائد کیں تھی۔

افغانستان میں امریکی جنگی جرائم کی فوجداری عدالت کی تحقیقات کے جواب میں موجودہ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے کہا: ہم بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے امریکیوں پر مقدمہ چلانے کی غیر قانونی کوششوں کو برداشت نہیں کریں گے۔

پچھلے سال ہی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے کردار، جنگی جرائم، اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

امریکی جرائم کے متعدد مقدمات جیسے عام شہریوں کی لاشوں کو مسخ کرنا، ان کے ساتھ یادگار تصاویر کھینچنا، خفیہ زندان بنانا، شادیوں پر حملہ کرنا، غیر انسانی تفتیشی طریقوں، جیسے پانی میں ڈبونا وغیرہ کا استعمال کرنا جیسے مقدمات عدالت میں دائر کیے گئے ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں