اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کا کہنا ہے کہ افغانستانی بچوں کو زندہ باقی رہنے کے لیے فوری انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فیور نے کہا کہ تقریبا ۱ کروڑ افغانستانی بچے غذائیت سے متعلق صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مزید ۱ کروڑ افغانستانی بچوں کو مناسب خوراک کے حصول کی خاطر فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب، ۴۲ لاکھ افغانستانی بچے جن میں ۲۲ لاکھ لڑکیاں شامل ہیں، اسکول سے محروم ہیں۔
آخری اطلاعات کے مطابق افغانستان میں حالیہ تنازعات میں کم از کم ۲ ہزار خلاف ورزیاں بچوں کے حقوق سے متعلق ہوئی ہیں۔
حالیہ مہینوں میں ۴ لاکھ ۳۵ ہزار بچے اور خواتین افغانستان میں بے گھر ہوئے ہیں، آنے والے مہینوں میں خشک سالی، کورونا کے پھیلاؤ، اور تشدد کی وجہ سے افغانستانی خواتین اور بچوں کی صورتحال مزید خراب ہونے کا امکان ہے۔
یونیسیف نے یہ بھی کہا کہ آنے والے مہینوں میں حالیہ پیش رفت کے تناظر میں، افغانستانی خواتین اور بچوں کی فوری انسانی امداد کی ضرورت میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ افغانستان میں پانی کی قلت اور شدید خشک سالی کے تباہ کن معاشی اور سماجی نتائج سامنے آئیں گے۔