۲۸ جولائی کو پاکستانی اخبار جنگ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق افغانستانی عہدے داران کی جانب سے کابل کے ہوائی اڈے کی محافظت کے فرائض ترکی کے حوالے کرنے پر طالبان ناراض ہوئے ہیں اور انہوں نے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی ترک عسکری موجودگی قابل قبول نہیں اور انکو اس موجودگی کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔
طالبان کے بیان کے بعد، ترکی نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ کابل ایئرپورٹ کو محفوظ بنانے میں اور طالبان کو اس امر پر منانے میں ترکی کی مدد کرے، لیکن پاکستانی حکام کی خاموشی انکی ترکی کی مدد کے لئے عدم رضامندی کا اظہار ہے۔
اس حوالے سے ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر مصطفیٰ شانٹوپ نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ افغانستان میں حالات کی بہتری کی خاطر اور کابل میں طالبان کو اپنے اہداف کی تکمیل سے روکنے کی خاطر طالبان سے بات کرے۔