وزارت داخلہ نے یہ اعلان کیا ہے کہ پچھلے مہینے میں ۲۴۷ شہری طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہوئے ہیں۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ کے دوران طالبان کے ہاتھوں ۲۴۷ شہری ہلاک اور ۵۲۷ زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرین نے بتایا ہے کہ یہ شہریوں کی تعداد طالبان کے کئے خودکش بم دھماکوں میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے ملک میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار طالبان کو ٹہرایا ہے۔
جواب میں طالبان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری ہلاکتوں کی اصل وجہ افغانستانی سکیورٹی فورسز ہیں۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ گذشتہ ماہ کے دوران افغانستانی فوج کے حملوں میں ۲۰۰ سے زائد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد سے ملک میں تشدد کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔