طالبان کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس سرد موسوم میں پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر ملک بدری اس لئے ہے تاکہ کابل پر اسلام آباد کے مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان دباؤ کے پیچھے پاکستان کے دو مقاصد ہیں لیکن یہ طالبان حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہیں؛ پہلا، ٹی ٹی پی کا مسئلہ ایک اندرونی مسئلہ ہے جو طالبان کے اقتدار میں آنے سے پہلے کابل میں موجود تھا، اور دوسرا، اسلام آباد توقع کرتا ہے کہ کابل ڈیورنڈ لائن کو ایک مشترکہ سرحد کے طور پر تسلیم کرے لیکن یہ بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جو افغانستان میں کسی بھی حکومت کا ذاتی معاملہ نہیں بلکہ یہ افغانی عوام کا مشترکہ مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن و امان اور دوسرے مسائل پاکستان کے اپنے اندرونی مسائل ہیں، پاکستان کے پاس مضبوط فوجی طاقت اور انٹیلی جنس ہے اور انہیں خود اس مسئلے کو روکنا ہوگا اور اس کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔