حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 28 ژوئن , 2021 خبر کا مختصر لنک :

نیٹو کا فیصلہ افغانستان پر قبضے کی برقراری ہے: طالبان

طالبان نے نیٹو کے سیکیورٹی فراہم کرنے کے بہانے اپنی افواج کو افغانستان میں تعینات باقی رکھنے کے حالیہ فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔


الجزیرہ کے مطابق، تحریک طالبان نے ایک بیان میں نیٹو کے افغانستان میں سیکیورٹی کی فراہمی کے بہانے اپنی افواج کو تعینات باقی رکھنے کے حالیہ فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے افغانستان پر قبضے کی برقراری قرار دیا ہے۔

تحریک طالبان نے کہا: نیٹو کا کابل بین الاقوامی ہوائی اڈے کو حفاظت فراہم کرنے کے لئے اپنی افواج کو باقی رکھنے کا فیصلہ افغانستان پر قبضے کی برقراری ہے۔

طالبان نے افغانستان میں غیر ملکی افواج باقی رہنے کے فیصلے کو معاہدہ دوحہ کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

طالبان نے کہا: نیٹو چاہتا ہے کہ افغانستان علاقائی افواج کے لئے جنگ کا میدان بنا رہے، اور ہم اس عزم کو مسترد کرتے ہیں۔ اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ افغانستان کی سرزمین دوسروں کے خلاف استعمال کی جائے اور ہم کسی بھی ملک کو اس سرزمین پر اپنی افواج کی موجودگی کی اجازت نہیں دیں گے۔

طالبان نے ترکی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ترکی جیسے اسلامی ملک کے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کابل ہوائی اڈے کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھائے، اور اس عمل کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔

یاد رہے کہ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے سربراہی اجلاس کے اختتام پر ایک بیان میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ افغانستان میں نیٹو کا عسکری مشن اپنے اختتام تک پہنچ چکا ہے لیکن اس کا غیر عسکری مشن جاری رہے گا۔

نیٹو سربراہی اجلاس کے اس بیان میں کہا گیا تھا کہ افغانستان سے انخلا کا مطلب اس ملک سے تعلقات کا خاتمہ نہیں بلکہ یہ آپسی تعلقات کا ایک نیا باب ہے۔

بیان میں تاکید کی گئی ہے کہ نیٹو افغانستانی عوام اور سیکیورٹی اداروں کی حمایت میں کھڑا ہے اور افغانستانی افواج کو امکانات فراہم کرتا رہے گا اور مدد کرتا رہے گا۔

نیٹو کے بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ وہ ایک مستقل ڈپلومیسی کے لئے اور افغانستان کے بقیہ دنیا کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کے مد نظر کابل بین الاقوامی ہوائی اڈے کو تحفظ فراہم کرتا رہے گا۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں