حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : یکشنبه, 8 آگوست , 2021 خبر کا مختصر لنک :

نبیل کا طالبانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ سے سوال

افغانستان ینگ جرنلسٹس کلب کے مطابق، افغانستانی قومی سلامتی کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ سے ایک ٹویٹ میں سوال کیا ہے کہ کیا انہوں نے افغانستانی عوام کے قتل کا فتوی جاری کیا ہے یا پاکستانی فوج کے کمانڈر نے؟!


نبیل نے لکھا: شیخ عبدالحکیم صاحب، آپ سپریم کورٹ کے سربراہ/ طالبان کی جانب سے فتاویٰ صادر کرنے والے ہیں۔ ہم سب خدا کے پاس پلٹنے پر ایمان رکھتے ہیں۔ افغانستانی عوام کو یہ پوچھنے کا حق ہے، اور آپ کو ایمانداری سے جواب دینا ہوگا کہ کیا افغانستانیوں کے قتل اور افغانستان کی سرزمین کو تباہ کرنے کا فتوی آپ نے جاری کیا ہے یا جنرل باجوہ نے۔

افغانستانی قومی سلامتی کے سابق سربراہ نے مزید کہا کہ طالبان افغانستانی سکیورٹی اور دفاعی افواج کو شکست دینے سے قاصر ہیں، اور طالبان نے ایک بار پھر القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے ارکان سے مدد کی خواہش کی ہے۔

نبیل نے صوبہ بدخشاں میں موجود دہشت گرد گروہوں کے ارکان کی تصاویر پوسٹ کیں اور کہا کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے دوبارہ فعال ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں