روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک میں، بالخصوص بھارت میں، امریکہ کی فوجی بنیادیں قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
لاوروف نے کہا ہے کہ میں امریکی مداخلت سے بخوبی واقف ہوں، میں نے سنا ہے کہ پینٹاگون بھارت کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ امریکہ کو اس ملک کی سرزمین پر مواقع فراہم کرے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوۓ کہا ہے کہ روسی صدر نے جنیوا اجلاس کے موقع پر اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات میں کہا تھا کہ، ماسکو افغانستان میں حملوں کی خاطر اڈے کے قیام کے لیے مشرق وسطی کے ممالک کے ساتھ امریکی معاہدے کی مخالفت کرتا ہے۔
روس کے وزیر خارجہ نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستان پہلے بھی امریکا کی ایسی پیشکشوں کو مسترد کر چکا تھا، ازبکستان کو بھی ایسی ہی درخواست موصول ہوئی تھی، لیکن اس ملک کے آئین نامے کے مطابق ازبکستان کی سرزمین پر غیر ملکی اڈے قائم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
لاوروف نے مزید کہا ہے کہ امریکہ کی کرغزستان میں فوجی اڈہ قائم کرنے کی درخواست کو بھی اس ملک کے صدر نے مسترد کر دیا ہے۔