حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : شنبه, 16 اکتبر , 2021 خبر کا مختصر لنک :

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی ۹۵ فیصد لائبریریاں بند

افغانستان کی پبلشرز یونین نے اعلان کیا ہے کہ طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد ملک میں ۹۵ فیصد لائبریریاں بند ہوگئیں ہیں۔


پبلشرز یونین آف افغانستان نے یہ اعلان کیا کہ طالبان کے ملک پر قبضے کے بعد ۹۵ فیصد لائبریریاں بند ہوگئیں ہیں۔

یونین نے کہا ہے کہ سابقہ حکومت کے خاتمے کے بعد مطالعہ کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

افغانستانی پبلشر یونین کے سربراہ سید احمد سعید نے کہا: سابقہ حکومت کے زوال نے لوگوں کی تعلیم کی سطح کو شدید متاثر کیا ہے، اور مطالعے کی ثقافت کو کم کیا ہے۔

پبلشرز یونین آف افغانستان کے سربراہ نے مزید کہا: مالی مشکلات نے ملک میں ۹۵ فیصد کتابوں کی دکانوں اور اشاعت خانوں کے دروازے بند کر دیے ہیں۔

سعیدی نے مزید کہا: کتاب بیچنے والوں اور پبلشرز کی صورتحال کو ۹۰ فیصد تعطل کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب لوگوں کے پاس کھانے کے لیے روٹی، پہننے کے لیے کپڑا، اور رہنے کے لیے جگہ نہیں ہو، تو وہ کتاب اور مطالعے کے بارے میں نہیں سوچتے۔

افغانستان میں سابقہ حکومت کے خاتمے سے قبل، ملک بھر میں ۱۸۰ پبلشر اور ۵۲۵ کتابوں کی دکانیں تھیں، جن میں سے ۹۰ پبلشرز اور تقریبا ۲۸۰ کتابوں کی دکانیں کابل میں فعال تھیں

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں