حصہ : افغانستان -+

زمان اشاعت : دوشنبه, 14 ژوئن , 2021 خبر کا مختصر لنک :

طالبان کا بے مثال تشدد سن ۲۰۲۱ میں بھی جاری ہے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے کوئی آثار نظر نہیں آرہے کہ طالبان شر پسند عناصر افغانستان میں کی جانے والی تشدد میں کوئی کمی لائیں گے۔


اقوام متحدہ کے ماہرین کی نئی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ سال ۲۰۲۰ میں بے مثال تشدد کا مظاہرہ کرنے کے بعد، سال ۲۰۲۱ میں بھی طالبان کا تشدد جاری رہے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان افغانستان میں ہونے والے اکثر حملوں کے ذمہ دار ہیں۔ ان حملوں میں سرکاری اہلکاروں، خواتین، انسانی حقوق کے محافظین، اور صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا: ان حملوں کا مقصد حکومت کی صلاحیتوں کو ضعیف کرنا اور سول سوسائٹی کو کمزور کرنا ہے۔

ماہرین کے اس گروہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ۲۲ صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ ۱۱ ستمبر، جو امریکہ میں دہشت گردی کے حملوں کی ۲۰ ویں برسی ہے، اس تاریخ تک امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا افغانستانی افواج کے لئے ایک چیلنج ثابت ہوگا کیوں کہ وہ اب ڈرون حملوں کی مدد، راڈار کی سہولیات، مانیٹرنگ میں لاجسٹک سپورٹ، گولہ بارود، اور تربیت سے محروم ہو جائیں گے۔

طالبان کے خلاف پابندیوں کی نگرانی پر مامور اقوام متحدہ کے ماہرین نے یہ پیشن گوئی کی ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا سے قبل ہی تشدد میں مزید اضافہ نظر آئے گا۔ انہوں نے اتحادی افواج کی حمایت سے محروم افغانستانی فورسز کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا۔

اس رپورٹ میں مزید کہا: افغانستانی فورسز نے بین الاقوامی اتحادی افواج کی فضائی مدد سے طالبان کی بہت سی سرگرمیوں کو کامیابی کے ساتھ روکا ہے، لیکن انہیں بھی اس عمل میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ افغانستانی افواج بین الاقوامی اتحادی افواج کی حمایت کے بغیر یہ لڑائی کیسے لڑیں گی۔

اس پینل نے ماضی کی ایک امید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں تشدد کی تصویر بہت تاریک ہے اور یہ توقع کی جارہی تھی کہ سال ۲۰۲۰ تک اس میں کمی واقع ہوگی، لیکن اس کے بر عکس، اس میں شدت سے اضافہ ہوا ہے۔ سال ۲۰۲۰ میں ۲۵۰۰۰ تشدد کے واقعات کے ساتھ، یہ اقوام متحدہ کی سابقہ رپورٹوں میں سے سب سے زیادہ عدد ہے، اور سال ۲۰۱۹ کے مقابلہ میں ٪۱۰ کا دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ماہرین نے مزید کہا کہ جب سے دوحہ مذاکرات کا آغاز ہوا ہے، تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ تشدد کے واقعات، جو عام طور پر سردیوں کے موسم میں کم ہوا کرتے تھے، سال ۲۰۲۰ کی سردیوں میں تشدد کے واقعات موسم بہار یا موسم گرما کے مقابلے میں زیادہ تھا۔

ماہرین نے مزید کہا: ۲۰۲۱ کے موسم سرما کے دوران غیر معمولی طور پر تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ ۳۱ جنوری اور ۳۱ مارچ کے دوران ملک بھر میں تشدد کے ۷۱۷۷ واقعات ہوئے ہیں، جو سال ۲۰۲۰ کے اسی عرصے کے مقابلے میں ۶۱ فیصد زیادہ ہیں۔

ماہرین کے اس گروہ کے تخمینے کے مطابق، طالبان جنگجوؤں کی تعداد ۵۸۰۰۰ اور ۱۰۰۰۰۰ کے درمیان ہے، اور وہ ایک قوی طاقت کی شکل میں برقرار ہیں۔

اگرچہ اکثر حملات کی ذمہ داری کوئی بھی گروہ قبول نہیں کرتا، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ تقریبا ۸۵ فی صد حملے طالبان کرواتے ہیں۔

شریک یي کړئ!

دیدگاه ها بسته شده است

منتخب خبریں

تازہ ترین خبریں