اعلیٰ قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ طالبانی تشدد میں اضافے کے باوجود طالبان کے ساتھ حکومت کے براہ راست امن مذاکرات دوحہ میں جاری رہیں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبد اللہ عبد اللہ نے کہا کہ طالبانی تشدد میں اضافے کے باوجود حکومت دوحہ میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات جاری رکھے گی۔
جناب عبداللہ نے مزید کہا کہ حال ہی میں ملک میں تشدد کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور حال ہی میں ہی طالبان نے اپنی توجہ عسکری پیشرفت پر کردی ہے۔
قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ملک میں جنگ کے خاتمے کا تنہا راستہ امن مذاکرات ہیں اور اس راہ حل کے لئے کوششیں روکی نہیں جائیں گی۔
جناب عبداللہ نے مزید کہا کہ افغانستانی حکومت طالبان کے ساتھ ملک میں جنگ کے خاتمے کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لئے اور سنجیدہ امن مذاکرات شروع کرنے کے لئے تیار ہے، لیکن طالبان نے تا حال امن کے اہم معاملہ پر توجہ نہیں دی ہے۔
ان خیالات کا اظہار اس موقع پر سامنے آیا ہے جب غیر ملکی افواج کا انخلا شروع ہونے کے دو ماہ کے اندر ہی ملک بھر میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
حملوں کی مدد سے طالبان نے ۲۰ اضلاع پر قبضہ بھی کرلیا ہے۔ تاہم، طالبان کے خلاف عوامی تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی ان اضلاع کے بہت سے افراد طالبانی جنگجوؤں کی گرفت سے آزاد ہوچکے ہیں۔