ایک برطانوی شہری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ایک برطانوی انخلائی مرکز کی طرف جاتے ہوئے اس کو اور اس کی بیوی کو طالبان نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
اس شخص کو سفارت خانے کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی تھی جس میں اسے کابل کے ایک ہوٹل میں آنے کی ہدایت دی گئی تھی، جہاں گھر لوٹنے والے برطانوی شہریوں نے جمع ہونا تھا۔ پہلی طالبان چوکی پر اس کو اور اس کی بیوی کو شدید مارا پیٹا گیا اور وہ گھر واپس جانے پر مجبور ہوگئے، لیکن اب وہ خوف کے باعث وہاں سے نکلنے سے قاصر ہیں۔
اس شخص کا کہنا تھا: محکمہ خارجہ کے لوگوں نے ہمیں بیرن ہوٹل پہنچنے کی ہدایت دی۔ لیکن ہمیں بتایا گیا کہ راستے میں تین طالبان چوکیاں آئیں گی۔ جب ہم چوکی کے قریب پہنچے تو طالبان نے ہمارے دستاویزات دیکھے بغیر ہی ہم پر حملہ کر دیا اور ہمیں گھر واپس جانے کا حکم دیا ورنہ وہ گولی چلا دیتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب غیر ملکی مسافرین کابل ہوائی اڈے کی جانب سفر کرتے ہیں تو انہیں بہت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس برطانوی شہری نے حکام سے کہا ہے کہ وہ اس کے گھر والوں کو کسی مناسب ہوٹل تک پہنچانے میں مدد کرے۔
وسطی افغانستان میں طالبان کی آمد کے بعد افغانستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے کابل ہوائی اڈے میں پناہ لی ہے اور ملک چھوڑنے کی کوشش کی ہے۔