طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان تمام غیر ملکی افواج پر حملے کئے جایں گے جو ۱۱ویں ستمبر کی دی گئی ڈیڈلاین کے بعد بھی افغانستان میں قیام پزیر ہوں گے۔
عرب نیوز کے مطابق طالبان نے برطانوی اور امریکی افواج کو اپنی ڈیڈلاین آگے بڑھانے سے خبردار کیا۔
طالبان نے کہا: ان تمام غیر ملکی افواج پر حملہ کریں گے جو ۱۱ویں ستمبر کے بعد بھی افغانستان میں مقیم رہے۔
طالبان کی دھمکی ایسے موقع پر آئی ہے جب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ برطانیہ اور امریکہ سفارتی اہلکاروں کی محافظت اور کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے تحفظ کے لئے فوج تعینات کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے عرب نیوز کو بتایا: ہم اور افغانستانی عوام امریکہ یا کسی دوسرے غیر ملکی فوج کو افغانستان میں باقی رہنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم ان کا شمار غاصبوں میں کریں گے اور ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جائے گا۔
مجاہد نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہم اپنے کئے گئے وعدوں پربرقرار ہیں اور نہیں چاہتے ان ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کریں، لیکن انہیں بھی اپنے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے۔
پیر کو شایع کردہ میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی اسپیشل فورسز کا ایک دستے کا انخلا کے بعد بھی افغانستان میں باقی رہنے کا امکان ہے۔
معاہدے کے مطابق امریکی قبضے کے ۲۰ سال گزرنے کے بعد افغانستان میں تمام افواج کو یکم مئی تک جنگ زدہ ملک سے نکلنا ہوگا۔
طالبان نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی افواج افغانستان نہ چھوڑیں گی تو ان کو گذشتہ ۲۰ سال جیسا ہی رویے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ جب سے امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے فیصلے کا اعلان کیا ہے، تب سے امریکہ نے سات سہولیات فراہم کرنے والے مراکز افغانستانی وزارت دفاع کے حوالے کردیے ہیں۔