اقوام متحدہ کے ماہرین نے سلامتی کونسل کو دی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ جب سے طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا ہے، تب سے ہی القاعدہ کی اپنے لوگوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
اسوسئیٹڈ پریس کے مطابق، اقوام متحدہ کے ماہرین نے عمومی طور پر دنیا میں دہشت گردی کے خطرات پر بات کی اور کہا کہ تنازعات والے علاقوں میں داعش اور القاعدہ کے خطرات اب بھی زیادہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک ان تنازعات کو کامیابی سے حل نہیں کیا جاتا، اس سے دنیا کے دیگر حصوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقہ، وسطی اور جنوبی ایشیا، شام، اور عراق کے علاقوں میں داعش اور القاعدہ کی سرگرمیوں کا تسلسل “گہری تشویش” کا باعث ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ کے مطابق: ایمن الظواہری کی اپنے روابط استوار کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، اور افغانستان میں القاعدہ کے اہم اتحادیوں کی طاقت کا استحکام؛ دونوں ہی طالبان کے غلبے کے بعد ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے: بین الاقوامی منظر نامہ القاعدہ کے لیے سازگار ہے، اور انکا مقصد خود کو عالمی جہاد کے رہنما کے طور پر دوبارہ ظاہر کرنا ہے۔