ورلڈ فوڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں سردی کے ساتھ ہی غذائی قلت انتہائی تشویش ناک ہے۔
ورلڈ فوڈ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ افغان معیشت برسوں سے جاری تنازعات اور خشک سالی کے بعد شدید متاثر ہوئی ہے خصوصاً خواتین اور بچے اس بحران کا شکار ہیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام نے اس سے قبل بتایا تھا کہ افغانستان میں اوسط خاندان اپنی آمدنی کا 91 فیصد خوراک پر خرچ کرتا ہے اور کم آمدنی کی وجہ سے بہت سے خاندان غذائی مواد جمع کرنے اور آئندہ دنوں کے لئے ذخیرہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔