طالبان حملوں میں اضافے کے بعد افغانستان کی سیکیورٹی اداروں کے ترجمان نے ملک کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے کہا: افغانستان اس وقت ایک نازک صورتحال میں مبتلا ہے۔
افغانستان کے سیکیورٹی اداروں کے ترجمان اجمل شینواری نے ایک نیوز کانفرنس سے گفتگو میں کہا: افغانستان اس وقت ایک نازک صورتحال میں مبتلا ہے۔
اسپیشل کلیئرنگ آپریشن (ان علاقوں کے لئے جد و جہد جو حکومتی گرفت سے جاچکے ہیں) کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: افغانستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں تبدیلی آئے گی۔
اجمل شنواری نے مزید کہا: یہ تبدیلیاں وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے نئے سربراہوں کی سرپرستی میں رونما ہوں گی۔
صدر افغانستان کے مشیر برائے امور تزویرات، وحید عمر نے بھی افغانستانی سیکیورٹی ادارہ یونٹ کے ترجمان کے عہدے کو متعارف کروایا۔
انہوں نے اس بارے میں کہا: در حقیقت، افغانستانی سیکیورٹی ادارہ یونٹ کے ترجمان کے عہدے کا مقصد ایک خبر رساں ذریعہ ہے جس سے جنگ کی پیشرفت سے آگاہ کیا جائے گا۔
مشیر برائے امور تزویرات نے کہا: افغانستان کے موجودہ نظام کی حفاظت ضروری ہے اور اس سلسلے میں تمام سیاسی حلقوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔
اپنے بیان میں وحید عمر نے افغانستان میں نمایاں سیاسی اور عملی شخصیات کی اشرف غنی سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: افغانستانی حکومت مکمل سیاسی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
افغانستان کے مشیر برائے امور تزویرات کا کہنا تھا: افغانستان میں تمام سیاسی شخصیات اور حلقے افغانستانی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور سیاسی نظام کے حامی ہیں۔